اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے سعودی عرب کے بزرگ شیعہ عالم دین آیت اللہ شیخ حسین الراضی کو گرفتار کئے جانے کے خلاف ایک مذمتی بیان جاری کیا ہے۔
اس بیان میں سعودی حکومت کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی تنظیموں سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ اپنے طور پر اس عالم دین کی رہائی کے لیے تلاش و کوشش کریں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ شہید نمر کی شہادت کے بعد سعودی حکومت کی جانب سے شیعوں کی سرکوبی کا سلسلہ بڑھتا جا رہا ہے اور یہ حکومت اپنی جاہلی زعم کے مطابق یہ گمان کر رہی ہے کہ عوام کی سرکوبی سے ان جرائم کی پردہ پوشی جا سکتی ہے جو حکومت اپنے منحوس وجود میں آنے سے اب تک انجام دے رہی ہے۔
سعودی حکومت یہ گمان کرتی ہے کہ لوگوں کو خاموش کر کے مختلف ملکوں میں اپنے ظلم و جور کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے، اور یمن، بحرین، شام، عراق اور دیگر پڑوسی ملکوں میں مسلمانوں کے خون کے ساتھ ہولی کھیلی جا سکتی ہے۔
اس بیان میں مزید آیا ہے کہ آل سعود کے سکیورٹی دستوں نے ایسے حال میں صوبہ الشرقیہ سے آیت اللہ شیخ حسین الراضی کو گرفتار کیا ہے کہ انہوں نے اپنے جمعہ کے خطبوں میں امریکی مزدور حکومتوں کی جانب سے حزب اللہ لبنان کو دھشتگرد گروہ کہے جانے کی مذمت کی اور صیہونی ریاست کے مقابلے میں حزب اللہ کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل سید حسن نصر اللہ پر درود بھیجا۔ انہوں نے حکومت آل سعود سے یہ بھی کہا ہے کہ یمن پر جارحیت کا سلسلہ بند کر دے اور بحرین سے اپنی فوجیں واپس بلوا لے تاکہ اس سے زیادہ مسلمانوں کے خون میں آل سعود کے ہاتھ رنگین نہ ہوں۔
اہل بیت(ع) عالمی اسمبلی نے سعودی عرب کے اس دلیر اور شجاع عالم دین آیت اللہ الراضی کی گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے ان کی سرنوشت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا اور عالمی برادری، مذہبی تنظیموں اور سیاسی دھڑوں سے مطالبہ کیا ہے کہ ہر ممکنہ طریقے سے اس بزرگ عالم دین کی آل سعود کی جیلوں سے رہائی کے لئے کوئی ٹھوس اقدام کریں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲